حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 9 ذی الحجہ، یوم عرفہ اور حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: روز عرفہ توبہ و استغفار کا دن ہے اس دن خداتعالی نے اپنے بندوں کو عبادت و اطاعت کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا: یوم عرفہ کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اطاعت خداوندی کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنی دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کرنے کی سعی و کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں امام زین العابدین علیہ السلام کی معروف روایت ہے کہ'' آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ تو فرمایا: وائے ہو تم پر آج بھی تم لوگوں سے سوال کر رہے ہو جبکہ خالق کائنات سے امید ہے کہ آج ماں کے شکم میں موجود بچے کو بھی محروم نہیں رکھے گا''۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا: کتب میں تفصیل کے ساتھ یوم عرفہ کے اعمال مذکور ہیں جیسے روزہ، غسل، زیارت امام حسین وغیرہ معروف ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: حضرت مسلم بن عقیل کو حجت خدا امام کا نائب خاص ہونے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے اپنے رہبر و رہنما کے مطیع ہونے اور باطل کے سامنے ڈٹ کر کلمہ حق بلند کرنے کی اعلی مثال قائم کی۔ یہی نہیں بلکہ اس راہ میں اپنے فرزندان کی قربانی پیش کر کے اس امر کو بھی واضح اور روشن کیا کہ دین کی سربلندی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا: حضرت مسلم بن عقیل کے عمل و کردار کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک فرض شناس انسان حمایت حق میں کہاں تک جاسکتا ہے ۔بنی ہاشم کی جرات و شجاعت کے عظیم سپوت اور جناب عقیل ابن ابی طالب کے فرزند جناب مسلم نے نواسہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کے سفیر کی حیثیت سے کوفہ کا سفر اختیار کرکے اور وہاں پر سختیاں اور مظالم برداشت کرکے علم حق بلند کرکے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کی۔ وہ درحقیقت امام وقت کی اطاعت و فرمانبرداری، ایثار و قربانی، شجاعت اور وفاشعاری کا عظیم استعارہ بن کر رہتی دنیا تک کے لئے مینارہ نور قرار پائی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: اہل کوفہ کی جانب سے مسلسل خطوط کے ذریعہ نواسہ پیغمبر، امام عالی مقام کی بیعت پر آمادگی کے لئے انہیں دی گئی۔ دعوت کے جواب میں امام علیہ السلام کا کوفہ کے حالات جاننے کے لئے حضرت مسلم بن عقیل کو اپنا سفیر مقرر کر کے کوفہ کی جانب روانہ کرنا بھی جناب مسلم بن عقیل کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبے کو واضح کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ